مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، شام کے مقامی ذرائع نے جمعرات کے روز دمشق کے نواح میں واقع وادی بردی کے علاقے کے دیہات میں دھماکوں کی آوازیں سنے جانے کی اطلاع دی۔ یہ آوازیں قدسیا اور جدیدۃ عرطوز کے علاقوں تک بھی سنائی دیں۔
ان ذرائع کی رپورٹ کے مطابق، یہ دھماکے غاصب اسرائیلی فوجیوں کی جانب سے جبل الشیخ کے دامن میں واقع فوجی مورچوں اور پناہ گاہوں کو دھماکے سے اڑانے کے نتیجے میں ہوئے۔ یہ مقامات دمشق کے مغربی نواح میں واقع گاؤں بقاسم کے اوپر بلند پہاڑی علاقے میں ہیں۔
واضح رہے 8 دسمبر 2024ء کو شام میں تکفیری گروہوں کے ہاتھوں بشار اسد کی قانونی حکومت کے خاتمے کے بعد سے غاصب اسرائیل نے شام کے مختلف علاقوں میں اپنے فضائی حملوں اور زمینی کارروائیوں میں توسیع کی ہے اور اس ملک کی فوج کے سابقہ ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔ غاصب اسرائیلی فوجی جنوبی شام میں اقوامِ متحدہ کی نگرانی میں قائم بفرزون میں بھی داخل ہو چکے ہیں اور جبل الشیخ (حرمون) کے اطراف میں بعض مقامات پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ یہ ایک اہم تزویراتی علاقہ ہے، جہاں سے دمشق کے نواحی علاقوں اور مقبوضہ جولان کی پہاڑیوں پر نظر رکھی جا سکتی ہے۔
یاد رہے 20 ستمبر 2026ء کو بھی شامی ذرائعِ ابلاغ نے جبل الشیخ کے دامن میں قلعہ جندل کے قریب شامی فوج کے سابقہ فوجی ٹھکانوں کو دھماکے سے اڑائے جانے اور صوبۂ قنیطرہ کے نواحی علاقوں پر گولہ باری کی خبریں دی تھیں۔ اسی طرح 5 اکتوبر کو غاصب اسرائیلی فوجیوں نے دمشق کے مغربی نواح میں ایک کارروائی کے دوران ایک متروک عمارت کو دھماکے سے اڑا دیا تھا۔
آپ کا تبصرہ